February 12, 2013

میرا نیا پاکستان

آج صبح جب میں آفس جانے کے لئے اٹھا تو کچھ عجیب سا محسوس ہو رہا تھا. بالکنی میں جا کے دیکھا توکچھ عجب منظر نظر آیا. ہر طرف خوشبو ہی خوشبو تھی. پرندے غیرمعمولی طور پہ چچہا رہےتھے. سردی کی وجہ سے فضا میں ہلکی سی خنکی تھی. ہر طرف رونق سی نظر آ رہی تھی-لیکن کچھ سمجھ نہ آیا کہ یہ کیا ہے. بہر حال چونکے دفتر سے دیر ہو رہی تھی اس لئے جلدی جلدی تیار ہو کے نیچے آیا. نیچے آ کے بھی کچھ عجیب محسوس ہوا- والدہ کے چہرے پہ بہت خوشی تھی. مجھ سے رہا نہ گیا تو پوچھ ہی لیا کہ کیا ہوا ہے- اور جو میں نے سنا وہ سن کے مجھے جھٹکا سا لگا. انہوں نے بتایا کہ ملک سے بجلی اور گیس کی لوڈ شدڈنگ مکمل طور پر ختم کر دی گیی ہے . تمام صنعتوں اور پورے ملک کو بلا تعطل بجلی ملا کرے گی. یہ سن کر تومیری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا. والد صاحب سے ملاقات ہوئی تو وہ بھی خلاف توقع خوش نظر آے. مجھ سے پھر نہ رہا گیا اور پوچھ ہی لیا- انہوں نے بتایا کہ حکومت نے سب کو اپنا گھر دینے کہ ایہلاں کیا ہے اور مہنگائی کا جن بھی بوتل میں بند کر دیا گیا ہے. بے یقینی اور خوشی کے عالم میں دفتر جانے کے لئے گھر سے نکلا تو ہمسایے سے ملاقات ہوئی. وہ جو ہر وقت حکومت کو کوستا رہتا تھا، آج اس کی زبان سےحکومت کے لئے دعائیں نکل رہی تھیں. مجھ سے پھر نہ رہا گیا اور پوچھ ہی لیا کہ بھییا خیریت ہے نہ کوئی انعام تو نہیں نکل آیا – موصوف نے بتایا کہ حکومت نے ہر بیروزگار نوجوان کو نوکری دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اسے بھی نوکری مل گی ہے. ساتھ ہی ساتھ تعلیم بھی مفت کر دی گیی ہے اور ہر شہری کی تعلیم کا خرچ بھی حکومت برداشت کرے گی. مجھے اپنے گناہ گار کانوں پہ یقین نہیں آ رہا تھا.
خیر دفتر کے لئے چونکے دیر ہو رہی تھی اسلئے جلدی سے گاڑی چلائی اور آفس کی  طرف نکل پڑا. راستے میں ہر کسی کے چہرے پہ خوشی دیکھ کے اطمینان ہو رہا تھا. ایسا لگ رہا تھا کہ میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں یا کوئی فلم چل رہی ہے. بسا اوقات اپنے آپ کو چٹکی بھی کاٹی تا کہ حقیقت کا احساس ہو سکے تو درد کی شدّت نے حقیقت کااحساس دلایا.

ٹریفک سگنل پہ رکا تو پولیس والا پاس آیا- مجھے لگا کہ آج یہ موصوف میری جیب سے کچھ لے کے ہی جایں گے لیکن حیرت انگیز طور پر اس نے آ کر سلام کیا اور مٹھائی پیش کی. میں نے پوچھا بھییا یہ چالان کا کوئی نیا طریقہ ہے تو وو بولا کہ صاحب چالان نہیں یہ توہ خوشی کی مٹھائی ہے. میرے استفسار پہ اس نے بتایا کہ تحریک طالبان نے جنگ بندی کا الان کر دیا ہے اور نہ صرف یہ بل کہ غیر مسلّح ہو کر پر امن شہری کے طور پے بھی رہنےکا الان کیا ہے. یہ توہ واقعی خوشی کی خبر تھی. اتنی دیر میں سگنل کھل گیا اور میں نے گاڑی چلا دی.

دفتر میں بھی عجب سامان تھا. سب ایک دوسرے کو گلے لگا کے مبارکباد دے رہے تھے. سب کے چہرے ہشاش بشاش تھے. اپنے قریبی دوست سے پوچھا توہ اس نے کہا کہ موصوف کہاں سوے رہے ہو تم، یہاں توہ پورے ملک کی کایا  ہی پلٹ گیی ہے. میں نے پوچھا وہ کیسے، پھر اس نے بتایا کہ حکومت نے سب کے لئے سفری سہولتیں مفت کر دی ہیں. صحت کی تمام سہولتیں بھی بہت کم مواوازے کے عوض ملیں گی. ڈاکٹرز نے ہڑتال ختم کر دی ہے اور اب وہ دلجوئی سے کام کریں گے. سرکاری ملازمین نے کرپشن نہ کرنے کا عہد کیا ہے. تمام عوام نے ٹیکس دینے کا وعدہ کیا ہے. صوبوں میں نیے ڈیم بنانے پر اتفاق ہو گیا ہے. چوری چکاری اور تمام بگڑی خصلتیں ختم ہو گیی ہیں.

اس سب پرمیں بہت خوش بھی تھا اور متجسس بھی کہ ایک رات میں سب کچھ کیوں کر اور کیسے ہوا. تمام معاملات کی چھان بین کی توہ پتا چلا کہ یہ ساری انقلابی تبدیلی میٹرو بس سروس کے چلنے کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے. اس سروس نے لوگوں کی زندگی کو یکسر تبدیل  اور حکومتی خزانے کو بھر دیا ہے. صبح سے مجھے جتنی بھی خوش خبریاں ملی ہیں وہ سب اسی سروس کی مرہون منّت ہیں. تھوڑا مزید کھوریدا تو پتا چلا کہ صرف میٹرو بس سروس ہی نہیں بل کہ لیپ ٹاپ، سولر لیمپس، انڈر پاسسس اور فلائی اورز، دانش سکولز، یلو کیپ سکیم، انٹرنشپ پروگرام اور سستی روٹی سکیم نے بھی اس دن دگنی ، رات چگنی ترقی میں اھم کردار ادا کیا ہے.

پاکسان زندہ باد  

No comments: